مذاکراتی ٹیم کا دورہ پاکستان کیوں منسوخ کیا؟ ٹرمپ نے بتادیا
پاکستان نے ایران اور امریکا کے درمیان تنازع کے حل کے لیے بہترین کام کیا، امریکی صدر
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ وٹکوف اور کشنر کا دورہ طویل سفر اور خرچے کی وجہ سے منسوخ کیا۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر نے بتایا کہ یہ وفد ایرانی حکام سے ملاقات کے لیے پاکستان جانا تھا تاہم طویل سفر اور وقت کے ضیاع کے باعث یہ فیصلہ واپس لینا پڑا۔
ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اس سفر میں 16 سے 17 گھنٹے لگتے جب کہ ان کے بقول اس دوران دیگر اہم کام بھی موجود ہیں، اس لیے اتنا طویل سفر کرنا مناسب نہیں سمجھا گیا۔
انہوں نے ایران کی قیادت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہاں شدید اختلافات اور بے یقینی پائی جاتی ہے، حتیٰ کہ خود ایرانیوں کو بھی واضح نہیں کہ اصل قیادت کس کے پاس ہے۔
امریکی صدر نے واضح کیا کہ ان کا وفد طویل سفر کرکے غیر نتیجہ خیز بات چیت کے لیے نہیں بیٹھ سکتا اور نہ ہی ایسے دوروں پر اضافی اخراجات کیے جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر اب پاکستان نہیں جائیں گے جب کہ جے ڈی وینس سمیت دیگر شخصیات کو بھی اس طویل سفر سے روک دیا گیا ہے۔
ٹرمپ نے اس موقع پر پاکستان کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے ایران اور امریکا کے درمیان تنازع کے حل کے لیے بہترین کام کیا ہے۔
انہوں نے فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیر اعظم شہباز شریف کو بہترین شخصیات قرار دیتے ہوئے کہا کہ دونوں رہنما اس مسئلے کے حل کے خواہاں ہیں۔
امریکی صدر کا مزید کہنا تھا کہ وہ اخراجات کے معاملے میں محتاط ہیں اور غیر ضروری طویل سفروں پر وسائل خرچ نہیں کرنا چاہتے۔









