اس وقت جو زمانہ چل رہا ہے، اسے برا تو نہیں کہہ سکتے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں زمانے کی قسم کھائی ہے۔ انسانوں کو بھی برا نہیں کہہ سکتے کہ اللہ نے انسان کو اشرف المخلوقات کہا ہے، تو چلیں حالات کو برا کہہ سکتے ہیں۔
اس وقت جو کچھ ہو رہا ہے، ہمارے ساتھ، ہمارے اردگرد اور دنیا بھر میں، وہ سب اصل میں حالات ہی کی خرابی ہے۔ کہیں جنگیں ہیں، کہیں قتل و غارتگری ہے، کہیں زلزلے ہیں اور کہیں سونامی، کہیں آگ نے تباہی مچا رکھی ہے تو کہیں پانی نے سیلاب کی صورت۔
ایک وقت تھا کہ ہم خود بھی دوسروں سے کہتے تھے کہ اپنی خوشیوں کی خبریں بتایا کریں، مٹھائی بانٹ کر بتایا کریں کہ اللہ نے آپ پر کتنا فضل و کرم کیا ہے۔
آپ کا کاروبار چمک رہا ہے، آپ کی ملازمت میں آپ کی ترقی ہو گئی ہے، آپ کے بچے باہر کے ملک میں اچھے عہدوں پر ہیں، ملک میں بہترین تعلیمی اداروں میں کامیابیاں حاصل کر رہے ہیں یا ان کی شادی کسی بہترین خاندان میں ہو رہی ہے۔ آپ کو اللہ نے بڑا گھر دیا ہے، آپ بیرون ملک سفر کر رہے ہیں، کئی بار عمرے کر چکے ہیں، غریبوں کی مدد کرتے ہیں۔
اتنی زیادہ دولت ہے، چمکتا کاروبار ہے، فرمانبردار اولاد ہے، ماہانہ آمدنی کے ذرائع جائز ہیں، بہترین بیوی یا شوہر ہے۔ اپنے مخلص دوستوں، پیار کرنے والے خاندان کے لوگوں اور ان لوگوں کو بتا کر خوشی ہوتی تھی جو کہ ہماری خوشی میں خوش اور پریشانی میں پریشان ہونے والے لوگ ہوتے تھے۔
اپنے بچوں کو بھی یہی سکھایا کہ خوامخواہ کی رازداری کا کیا فائدہ۔ اگر آپ اہل خاندان اور مخلص دوستوں کو اپنی کامیابیوں کے بارے میں نہیں بتائیں گے تو اور کسے بتائیں گے، مگر اب عمر کے جس حصے میں پہنچے ہیں، اندازہ ہوا ہے کہ ایسا نہیں ہے۔
اب ہم سب کو کہتے ہیں جو کچھ آپ کے پاس ہے، ا سے چھپا کر رکھیں۔ خود بھی چھپائیں اور کوشش کریں کہ اگر ہمیں کوئی بتائے تو دل میں استغفار پڑھیں کہ شیطان ہمارے دل میں حسد اور وسوسہ پیدا نہ کرے۔
اب جتنی تیزی سے موسم بدلتے ہیں، اتنی ہی تیزی سے انسان اور ان کے اذہان بھی بدل جاتے ہیں۔ آج آپ کا بدترین دشمن کل کو آپ کا بہترین دوست بن سکتا ہے، آج کے قریبی رشتوں میں کل کو دراڑیں پڑ سکتی ہیں۔ آج کا بہترین دوست کل کسی مقام اور وجہ سے آپ کے خلااف کھڑا ہو سکتا ہے۔
انسانو ں میں ایک جیسے نظر آنے والے بھی کئی لحاظ سے ایک دوسرے سے مختلف ہوتے ہیں، محنتی اور مسلسل کوشش کرنے والے کامیاب ہوتے ہیں لیکن ان کی یہ صلاحیت بھی خداداد ہوتی ہے۔
کبھی کبھار کلاس کے آخری بنچوں پر بیٹھنے والے اور تمام کلاسوں میں سزا کے طور پر کھڑے رہنے یا ہر استاد کے ہاتھوں پٹائی کروانے والے… بیس سال کے بعد اپنے ان ہم عصروں سے بہترین مقام پر ہوتے ہیں جو ان کے کلاس فیلو تھے اور ہر کلاس میں ٹاپ کرتے تھے، بورڈ میں پوزیشن لیتے تھے۔
اب یہ ناکام لوگ جو کامیاب ہوتے ہیں، دولت مند اور باسعادت ہوتے ہیں۔ ان کی مستقبل میں کامیابی کے پیچھے بھی تو کسی دعا کا ہاتھ ہوتا ہے، کچھ اچھی عادات ہوتی ہوں گی جو ہم عصروں اور اساتذہ کو نظر نہ آئیں۔ ہمارے ہاں تو یوں بھی پڑھائی کا نظام ایسا ہے کہ بچوں کی صلاحیتوں کو جانچ ہی نہیں سکتا اور انھیں وہ سب مضامین پڑھنے پر مجبور کرتا رہتا ہے جو ان کی ذہنی اپچ سے بالا ہوتے ہیں۔
جب وہ تھکے ٹوٹے امتحان دے کر پاس یا فیل ہوتے رہتے ہیں اور انھیں اس میدان میں قسمت آزمائی کا موقع ملتا ہے جو ان کی اصل ذہنی قابلیت کے مطابق ہوتا ہے تو ان کے جوہر کھلتے ہیں۔
خود کو آپ نے اس نقصان سے خود بچانا ہے، اپنی خوشیوں کا دائرہ بھی محدود کریں، لوگ یہ سن کر خوش ہوتے ہیں کہ آپ کا کوئی نقصان ہو گیا، آپ کی صحت خراب ہے، آپ کا حادثہ ہو گیا ہے، آپ کی ملازمت چلی گئی ہے، آپ کا ملازم بھاگ گیا ہے، آپ کی بیٹی کا رشتہ نہیں ہو رہا ہے، آپ کا بیٹا آوارہ ہو گیا ہے، آپ کی بیوی جھگڑالو ہے، آپ اپنے خاندان سے ناراض ہیں، آپ کا باس سختی کرتا ہے، بچے پڑھائی میں ناکام ہیں، آپ جس کام میں ہاتھ ڈالتے ہیں وہ ڈوب جاتا ہے۔
لوگ ایسی باتیں آپ کے بارے میں سنتے ہیں تو شاید خوش ہوتے ہیں، آپ کے دکھ میں لوگ ساتھی بن جاتے ہیں مگر حسد ایک ایسی بیماری ہے کہ اس میں مبتلاہونے والا کسی کی خوشی میں خوش نہیں ہو سکتا۔
احتیاط کریں کہ آپ کسے کیا بتا رہے ہیں، لوگو ں کو بتائیں کہ موسم کیسا ہے، ایران میں کیا ہو رہا ہے، پٹرول کی قیمتوں میں اضافے کے کیا کیا نقصانات ہیں، یورپ اور امریکا کی کیا کیا پالیسیاں ہیں، دریاؤں میں پانی نہ رکنے کے کیا اسباب ہیں، کس کس انڈرپاس کا ڈرینج سسٹم اچھا ہے۔
کراچی میں کیا چل رہا ہے، کس کپڑے کا فیشن ہے، تعلیمی نظام میں کیا خرابیاں ہیں… ایسے موضوعات جو کہ آپ کی ذاتی زندگی کی کسی کامیابی سے جڑے نہ ہوں، کچھ بھی ایسا جو آپ کے حق میں اچھا نہ نظر آتا ہو۔
آپ تہجدکی نماز پڑھتے ہیں، باقاعدگی سے فجر کے لیے بھی اٹھتے ہیں، پانچوں وقت نماز پڑھتے ہیں اور وہ بھی مسجد میں جا کر توآپ کا اپنا اچھا فیصلہ ہے، ہر کسی کو مت بتائیں، آپ کے اور اللہ کے بیچ کا معاملہ ہے۔
کوئی ایسا جسے آپ اس لیے بتانا چاہتے ہوں کہ وہ بھی اس سے متاثر ہو، آپ کے اپنے بچے اور بھائی بہن، یہ لوگ شاید آپ سے حسد نہ کریں یا نسبتاً کم کریں گے۔ آپ کو اللہ نے ہمیشہ رزق حلال نصیب کیا ہے، آپ اچھا کھاتے ہیں تو اس میں آپ کا کمال بھی کم ہے لیکن اگر آپ کسی کو اپنا کارنامہ بنا کر دکھانا چاہیں گے تو اللہ کو یہ اچھا نہیں لگے گا، دوسری طرف شیطان اپنا وارکر دے گا۔
کتنا صدقہ دیتے ہیں اور کتنی زکوۃ، آپ کا اور اللہ کا معاملہ ہے، کسی کو بتانے یا دکھانے کی کیا ضرورت ہے۔ آپ کے گھر والوں کو ویسے ہی علم ہوتا ہے، باقیوں کا جاننا اہم نہیں۔ نیا گھر خریدیں یا گاڑی، نیا کاروبار شروع کریں یا ملازمت، پروموشن ہو یا کاروبار میں ترقی… یہ سب آپ کی اور آپ کے گھر والوں کی خوشیاں ہیں، ان سے ہر کوئی خوش نہیں ہوتا۔
شیطان لوگوں کے دلوں میں وساوس ڈالتا ہے اور لوگ ہر اس بات سے حسد میں مبتلا ہو جاتے ہیں، ہم بھی بسااوقات سب کچھ اپنے پاس ہوتے ہوئے بھی دوسروں کے بارے میں حسد میں مبتلا ہوجاتے ہیں، منفی سوچنے لگتے ہیں حالانکہ ہمیں نہ ان چیزوں کی ضرورت ہے جو کسی اور کے پا س ہیں اور نہ ہی وہ ہماری ہو سکتی ہیں، اگر وہ کسی اور کو نہ ملیں تو۔ ایک آسان سی بات یاد رکھیں کہ حسد اس چیز سے ہوتا ہے جو صاف نظر آرہی ہو یا دکھائی جا رہی ہو۔
ایک طریقہ ٹیسٹ کرنے کا کہ کون آپ کے ساتھ مخلص ہے، اسے اپنی تکلیف، دکھ یا پریشانی بتا کر دیکھیں، اگر وہ اس بیماری، پریشانی یا تکلیف میں آپ کے ساتھ آنسو بہاتا ہے، پریشان ہوتا ہے، دکھ محسوس کرتا ہے اور آپ کے لیے کوشش کرتا ہے تو وہ واقعی آپ کا اپنا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو حاسد اور محسود بننے سے محفوظ رکھے، آمین!







