یورپ اس وقت اپنی تاریخ کی ریکارڈ گرمی کا سامنا کررہا ہے۔ ایسے میں انٹرنیٹ پر کچھ ایسی ویڈیوز بھی وائرل ہورہی ہیں جن میں ٹریفک سگنلز اور سڑکوں پر اسفالٹ کو پگھلتے دکھایا گیا ہے، کچھ ویڈیوز میں چلتی گاڑیوں کے ٹائر بھی پگھل رہے ہیں۔
ویڈیوز کے ساتھ کیپشن بھی درج ہے کہ یورپ میں شدید گرمی کی وجہ سے ٹریفک لائٹس خراب ہو رہی ہیں اور اسفالٹ پگھل رہے ہیں۔ علاوہ ازیں یہ خبریں بھی سامنے آرہی ہیں کہ ریکارڈ توڑ گرمی نے ٹراموں کو بند کرنے پر مجبور کردیا ہے۔ فرانس، اسپین اور جرمنی جیسے کچھ مقامات پر درجہ حرارت 40 ڈگری سیلسیس سے زیادہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
یورپ میں شدید گرمی کی لہر خطرناک حد سے تجاوز ہونے کے بعد درجہ حرارت نے ٹرانسپورٹ کے بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچایا ہے، جس سے جرمنی کے لیپزگ میں سب وے کا نظام بند ہوگیا ہے۔ لیپزگ ٹرانسپورٹ اتھارٹی کے مطابق، مسلسل گرم موسم کی وجہ سے آپریشنل سیفٹی کو متاثر کرنے والے ٹرام سروسز کو معطل کرنا پڑا۔ ایجنسی کا کہنا ہے کہ زیادہ درجہ حرارت اسفالٹ اور کنکریٹ کی سطحوں کے توسیعی جوڑوں میں سیلنٹ کو پگھلنے کا باعث بنتا ہے، جس سے شہر کی ٹرینوں کے محفوظ آپریشن کو خطرہ ہوتا ہے۔
یہاں تک تو بہرحال خبر درست ہے، لیکن اگر انٹرنیٹ پر وائرل ویڈیوز کا جائزہ لیا جائے تو خبر کی صداقت مجروح ہوتی ہے۔ ویڈیوز کا معائنہ کرنے کے بعد فیکٹ چیک ٹیم اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ اکثر ویڈیوز میں اے آئی کا استعمال کیا گیا ہے یا مختلف حقیقی کلپ کو غلط انداز میں حالیہ واقعے سے جوڑا گیا ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ ٹریفک لائٹس محض چالیس ڈگری سینٹی گریڈ پر نہیں پگھل سکتیں۔ ٹریفک سگنل کے پگھلنے کی جو ویڈیو حالیہ گرمی کے ساتھ شیئر کی جارہی ہے اس کے بارے میں کچھ صارفین کا کہنا ہے کہ یہ 2022 میں اٹلی میں ایک ٹریفک حادثے کی ہے جب ایک اسکوٹر میں آگ لگنے سے یہ لائٹس متاثر ہوئی تھیں۔ پوسٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ٹریفک لائٹس کو زیادہ ٹمپریچر برداشت کرنے کےلیے ڈیزائن کیا جاتا ہے، اور ہیٹ ویوز انھیں پگھلا نہیں سکتیں۔
نیز 2023 میں بھی یہی تصاویر اور ویڈیوز لکھنئو میں شدید گرمی کے تذکرے کے ساتھ بھی شیئر کی گئی تھیں۔
دیگر وائرل ویڈیوز میں بھی اے آئی کا استعمال کرکے صارفین کو گمراہ کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ پس یہ بات تو طے ہے کہ یورپ اس وقت شدید گرمی کی لپیٹ میں ہے لیکن ان وائرل ویڈیوز کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔











