اے آئی سے صحت کے بارے میں مشورہ مانگنا ہے تو پہلے یہ تحقیق پڑھ لیں

اے آئی سے صحت کے بارے میں مشورہ مانگنا ہے تو پہلے یہ تحقیق پڑھ لیں


اگر آپ نے کبھی چیٹ بوٹ سے اپنی بیماری کے بارے میں پوچھا ہے تو یہ خبر آپ کے لیے اہم ہے۔

ایک نئی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ مشہور اے آئی چیٹ بوٹس جب صحت کے بارے میں سوالات کا جواب دیتے ہیں تو تقریباً نصف مرتبہ ان کا جواب یا تو گمراہ کن ہوتے ہیں یا پھر سراسر غلط۔

برٹش میڈیکل جرنل میں شائع ہونے والی اس تحقیق کے لیے ماہرین نے پانچ بڑے چیٹ بوٹس (چیٹ جی پی ٹی، جیمنی، گروک، میٹا اے آئی اور ڈیپ سیک) کو کینسر، ویکسین، غذائیت اور کھیلوں کی کارکردگی سے جڑے 50 سوالات پوچھے جس کے نتائج چونکا دینے والے تھے۔

ماہرین نے دیکھا کہ 20 فیصد جوابات تو ایسے تھے جنہیں ’’انتہائی مسئلہ کن‘‘ قرار دیا جاسکتا ہے۔ نصف جوابات (50 فیصد) ’’مسئلہ کن‘‘ تھے جب کہ 30 فیصد میں معمولی خرابیاں تھیں۔ صرف دو سوالوں کے جواب دینے سے بوٹس نے انکار کیا۔

سب سے بری کارکردگی گروک کی رہی جس کے 58 فیصد جوابات میں خامیاں تھیں۔ اس کے بعد چیٹ جی پی ٹی 52 فیصد اور میٹا اے آئی 50 فیصد کے ساتھ دوسرے اور تیسرے نمبر پر تھے۔

مسئلہ تب اور بڑھ گیا جب سوالات کھلے نوعیت کے تھے جیسے ’’مجموعی صحت کے لیے کون سے سپلیمنٹ بہتر ہیں؟‘‘ ایسے سوالات پر 32 فیصد جوابات انتہائی مسئلہ کن نکلے جب کہ ہاں یا نہیں والے سوالات پر یہ شرح صرف 7 فیصد تھی۔

بوٹس نے اپنے جوابات کے ساتھ حوالے بھی دیے لیکن وہ بھی درست نہ تھے۔ محققین نے جب ہر بوٹ سے دس حوالے مانگے تو درست حوالوں کی شرح صرف 40 فیصد نکلی۔ حوالوں میں غلط مصنفین، ٹوٹے لنکس اور ایسے مقالے شامل تھے جو کبھی لکھے ہی نہیں گئے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ مسئلہ خود ان بوٹس کی فطرت میں ہے۔ یہ ’’علم‘‘ نہیں رکھتے بلکہ تربیتی مواد کی بنیاد پر اندازہ لگاتے ہیں کہ اگلا لفظ کیا ہوسکتا ہے اور ان کی تربیت میں ڈاکٹری کے مقالوں کے ساتھ ساتھ سوشل میڈیا کی پوسٹیں اور بلاگز بھی شامل ہیں۔

یہ تحقیق کوئی انوکھی نہیں کیونکہ اس سے پہلے بھی کئی مطالعوں میں یہ ثابت ہوچکا ہے کہ اگرچہ بوٹس خود میڈیکل امتحانات پاس کرسکتے ہیں لیکن جب عام لوگ ان سے پوچھتے ہیں تو درست جواب ملنے کے امکانات بہت کم ہوجاتے ہیں۔

اس کا مطلب یہ نہیں کہ یہ بوٹس بیکار ہیں۔ یہ پیچیدہ موضوعات کا خلاصہ کرنے، ڈاکٹر سے ملاقات کے لیے سوالات تیار کرنے یا تحقیق کا نقطہ آغاز بنانے میں مدد دے سکتے ہیں لیکن انہیں ڈاکٹر کا متبادل نہ سمجھیں۔

اگر آپ ان سے طبی مشورہ لیتے ہیں تو ہر دعوے کی تصدیق کریں اور یاد رکھیں کہ ان کے دیے گئے حوالے بھی جھوٹے ہوسکتے ہیں۔



Source link

پی ایس ایل 11؛ راولپنڈیز کو ملتان سلطانز سے شکست
Karachi: Shipbuilding has become expensive due to the skyrocketing fuel prices | Express News

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Indonesia: Domestic workers legally recognised after ’22-year struggle’
Indonesia: Domestic workers legally recognised after ’22-year struggle’
previous arrow
next arrow
Categories
Archives
My Cart
Recently Viewed
Categories
Compare Products (0 Products)