قدیم انسانوں کا وہ علاج جو آج بھی لاکھوں جانیں بچاسکتا ہے
قدیم انسان برچ کے درخت سے حاصل ہونے والے مادے کو زخموں کی دوا کے طور پر استعمال کیا کرتے تھے۔
ماہرین آثار قدیمہ نے دریافت کیا ہے کہ قدیم انسان نیندرتھل برچ کے درخت سے حاصل ہونے والے ایک چپکنے والے مادے کو نہ صرف اوزار بنانے کے لیے استعمال کرتے تھے بلکہ اسے زخموں کی دوا کے طور پر بھی استعمال کیا جاتا تھا۔ یہ جدید طب سے تقریباً 2 لاکھ سال پہلے کی بات ہے۔
سائنسدانوں نے اس برچ کے گاڑھے رس کو انہیں طریقوں سے تیار کیا جو ممکنہ طور پر نیندرتھل استعمال کرتے تھے۔ اس کے بعد کینیڈا کی یونیورسٹی میں حیاتیاتی ٹیسٹ کیے گئے جن سے ثابت ہوا کہ یہ مادہ جراثیم کش خصوصیات رکھتا ہے۔
محققین نے دو طرح کے برچ کے درختوں کی چھال جمع کی اور تین مختلف طریقوں سے گاڑھا رس نکالا۔ پہلا طریقہ مقامی لوگوں کے روایتی طریقے سے متاثر تھا جب کہ دیگر دو طریقوں سے یہ اندازہ لگایا گیا کہ نیندرتھل کیسے گاڑھا رس بناتے ہوں گے۔
گاڑھے رس کے نمونوں نے اسٹیفیلوکوکس اوریئس نامی جراثیم کے خلاف مثبت اینٹی بیکٹیریل سرگرمی دکھائی جو زخموں کے انفیکشن کا سبب بنتا ہے۔ تاہم یہ عام اینٹی بائیوٹک گینٹا مائیسن جیسی موثر نہیں تھی اور ای کولی جراثیم پر اس کا کوئی اثر نہیں ہوا۔
ماہرین کا خیال ہے کہ نیندرتھل اس مادے کو خاص طور پر ان زخموں یا جلد کے مسائل کے علاج کے لیے استعمال کرتے تھے جن میں انفیکشن کا خطرہ ہوتا تھا۔
اس دریافت کی اہمیت اس لیے بھی ہے کہ آج اسٹیفیلوکوکس اوریئس اینٹی بائیوٹک کے خلاف مزاحمت پیدا کرچکا ہے اور صرف امریکا میں ہر سال 5 لاکھ مریض آتے ہیں۔
اس لیے پرانے علاج پر نظرثانی کرنا فائدہ مند ہوسکتا ہے۔ محققین کا کہنا ہے کہ جب نئے علاج بے اثر ہوجائیں تو قدیم طریقوں سے رہنمائی لینا قابلِ غور ہے۔











