کافی پرانی بات ہے، میرے حلقۂ احباب میں ایک خاتون تھیں جن کا تعلق حیدرآباد دکن سے تھا، وہ ایک اخبار میں ملازم تھیں۔ رنگ سانولا تھا، آدھا چہرہ جھلسا ہوا تھا، سنا تھا کالج میں پریکٹیکل کرتے ہوئے تیزاب سے جل گئیں۔ مجھے یقین نہ آیا کیوں کہ اگر پریکٹیکل کرنے میں جھلستیں تو ہاتھ اور پیٹ جلتا، نہ کہ آدھا چہرہ۔ لیکن میں نے کبھی ان سے یہ سوال نہ کیا۔ ان کے انتقال سے دس بارہ دن قبل میں ان کے گھر میں بیٹھی تھی، شوہر کا انتقال ہو چکا تھا اور انھوں نے سولہ سترہ سالہ ایک قریبی رشتے دار کے لڑکے کو اپنا بیٹا بنا لیا تھا، جب وہ چوبیس سال کا ہوا تو انھوں نے اس کی شادی اپنے قریبی رشتے دار کی بیٹی سے کر دی اور ساتھ ہی اپارٹمنٹ اس لڑکے کے نام کر دیا اور خود خالی ہاتھ رہ گئیں۔
مجھ سمیت دیگر مشترکہ دوستوں نے انھیں اس اقدام سے باز رکھنے کی بہت کوشش کی لیکن وہ نہ مانیں اور پھر وہی ہوا جو اکثر ایسے معاملات میں ہوتا ہے۔ شادی کے کچھ عرصے بعد اس نے کنارہ کشی اختیار کر لی، اس کا اور اس کی بیوی کا رویہ بہت خراب ہو گیا، اب ہماری دوست کو صبح کا ناشتہ، دوپہر اور رات کا کھانا تیار کرنا پڑتا، بیمار رہنے لگیں، اکثر دونوں میاں بیوی باہر جا کر کھانا کھا کر آ جاتے اور وہ گھر میں بھوکی پڑی رہتیں۔ پنشن کے جو تھوڑے بہت پیسے ملتے تھے، ان سے دوا دارو چلتی تھی، گھر میں راشن ڈلوانا اس لڑکے نے بند کر دیا تھا، عجب کسمپرسی کی حالت تھی۔ اپنے فیصلے پر خود ہی روتی تھیں، لیکن اب پچھتائے کیا ہوت۔ ایک دن انھوں نے مجھے فون کیا اور کہا کہ میں ان کے لیے کچھ کھانے کو لے جاؤں، میں نے کچھ بسکٹ، سموسے نمکو اور کولڈ ڈرنک خریدے اور ان کے گھر پہنچ گئی، وہ گھر میں اکیلی تھیں، رونے سے چہرہ سرخ ہو رہا تھا، جب میں نے چیزیں دیں تو انھوں نے ان چیزوں کو جلدی سے ایک کمبل سے ڈھک دیا اور بڑی بے تابی سے سموسے کھائے۔
وہ چوبیس گھنٹے سے بھوکی تھیں، انھوں نے بتایا کہ اگر بہو نے یہ سامان دیکھ لیا تو اٹھا کر لے جائے گی، وہ لوگ اپارٹمنٹ بیچنے کی بات کر رہے تھے تاکہ بہو اپنی ماں کے قریب گھر لے سکے۔ اس دن انھوں نے مجھ سے کہا کہ’’ سب نے میرے جھلسے ہوئے چہرے کے بارے میں پوچھا لیکن تم نے آج تک کبھی کوئی سوال نہیں کیا، بھلا کیوں؟‘‘ تب میں نے جواب دیا کہ’’ مجھے یقین ہے کہ یہ تیزاب کسی نے تمہارے چہرے پر پھینکا ہے۔‘‘ تب وہ سسکیاں لے کر رو پڑیں اور بولیں ’’ہم جہاں رہتے تھے وہ گراؤنڈ فلور کا گھر تھا، گھر میں والدہ، بھائی، بھابھی اور ایک بہن تھی۔ صبح جب میں کالج جاتی تو ایک لڑکا میرا پیچھا کرتا اور جب دوپہر میں واپس آتی تو وہ پیچھے پیچھے گھر تک آتا، یہ ایک بدکردار شخص تھا۔
میں نے بھائی سے اس لیے ذکر نہ کیا کہ وہ میرا کالج جانا بند کروا دیتے۔ پھر ایک دن اس نے اپنی ماں کے ذریعے میرا رشتہ بھیجا، جسے فوری طور پر والدہ اور بھائی نے منع کر دیا۔ چند دن بعد جب میں صبح کے وقت یونیفارم استری کر رہی تھی، کمرے کی کھڑکی گلی میں کھلتی تھی، اچانک کسی نے میرا نام لے کر پکارا۔ میں نے پردہ ہٹا کر دیکھا تو اس نے تیزاب کی بوتل میرے چہرے پہ پھینک دی اور فرار ہو گیا۔‘‘ اتنا کہہ کر وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگیں، ان کا علاج ہوا، خوش قسمتی سے آنکھیں بچ گئی تھیں۔ مجھے یہ واقعہ اس ملاقات میں سنانے کے دس بارہ دن بعد ان کا انتقال ہو گیا۔
آج یہ افسوسناک واقعہ کوئٹہ کی زیر تربیت ڈاکٹر ماہ نور ناصر کے سنگین واقعے پر یاد آیا۔ ہمارا سماج ایک قبائلی سماج ہے، جہاں مرد کی حکومت ہے۔ قابل عورت سے حسد کیا جاتا ہے۔ قبائلی معاشرے میں عورت کو پیر کی جوتی سمجھا جاتا ہے۔ بلوچستان میں تو ایک وزیر نے عورتوں پر کتے چھڑوا دیے تھے اور موصوف نے بڑے دھڑلے سے کہا تھا کہ’’ یہ ان کی قومی روایت ہے۔‘‘ ڈاکٹر ماہ نور کی کیا خطا تھی کہ ایک لفٹ آپریٹر کے رشتے کو ٹھکرا دیا؟ بس یہ انکار اس کے لیے سزا بن گیا؟ افسوس اس بات کا ہے کہ بدبخت مجرم کو ہلاک کرکے اس کی مشکل آسان کر دی، اس کمبخت کو عمر قید ہونی چاہیے تھی۔
پاکستان، ہندوستان اور بنگلہ دیش میں تیزاب گردی سماج کے منہ پر ایک بدنما جھلسا ہوا داغ اور سنگین ترین جرم ہے جس کا نشانہ زیادہ تر خواتین اور خواجہ سرا بنتے ہیں۔ یہ بربریت اور وحشت ہے جو کسی خاتون کا جسم اور چہرہ ہی نہیں جھلستی بلکہ اس کی روح، خواب اور سماجی زندگی کو بھی ہمیشہ کے لیے معذور کر دیتی ہے، یہ قتل سے بھی زیادہ ہولناک تشدد اور بربریت ہے۔ کوئی قانون نہیں کہ تیزاب بیچنے پر پابندی لگائی جائے، اگر بیٹریوں اور فیکٹریوں میں اس کا استعمال ضروری ہے تو اس کے لیے کوئی قانون بنایا جائے کسی کو بھی بغیر شناختی کارڈ کے تیزاب نہ بیچا جائے۔
فاخرہ یونس کا کیس سب کو یاد ہے، جب پنجاب کے ایک سیاستدان کے بیٹے نے اپنی بیوی فاخرہ پر تیزاب پھینک کر جلایا تھا۔ وہ اتنے طاقتور تھے کہ کوئی شنوائی نہ ہوئی۔ فاخرہ پر تیزاب کا حملہ سن 2000 میں ہوا تھا۔ اس کا چہرہ اور جسم شدید طور پر جھلس گیا تھا۔ وہ علاج کے لیے اٹلی گئیں، لیکن شدید ذہنی اور جسمانی عذاب اور اذیت کے باعث انھوں نے 2012 میں ایک عمارت کی چھٹی منزل سے کود کر خودکشی کر لی۔ پریتی راٹھی انڈین تھیں 2013 میں ممبئی ریلوے اسٹیشن پر حسد کا شکار ایک نوجوان نے اس پر تیزاب پھینکا، جو پریتی کے اندرونی اعضا میں داخل ہو گیا جس کے باعث وہ اسپتال میں دم توڑ گئیں۔ لاہور میں اشرف نور نامی مجرم نے تین خواتین پر تیزاب پھینک کر انھیں قتل کر دیا تھا، جس کے بعد 2019 میں اسے پھانسی دے دی گئی۔
دنیا بھر میں بہت سی خواتین تیزاب گردی سے زندہ بچ گئیں، لیکن ان کی زندگی اجیرن ہو گئی، وہ شدید مایوسی، انتشار اور ڈپریشن کا شکار ہو گئیں، لیکن انھوں نے تیزاب گردی کے خلاف مہم بھی چلائی۔ ان میں بھارتی خاتون لکشمی اگروال سرفہرست ہے جس پر صرف پندرہ سال کی عمر میں تیزاب پھینکا گیا، لکشمی نے سپریم کورٹ میں تیزاب کی کھلی فروخت کے خلاف کامیاب قانونی جنگ لڑی۔ ریشماں قریشی بھی بھارتی خاتون تھیں، جن پر 2014 میں تیزاب گردی کا شکار ہوئیں، لیکن بعد میں وہ ایک مشہور بیوٹی بلاگر اور ماڈل بنیں اور نیویارک فیشن ویک میں ریمپ واک کی۔ نائلہ فاروق پر ان کے کالج کے زمانے میں تیزاب پھینکا گیا، یہ پاکستانی تھیں۔ انھوں نے بھی سپریم کورٹ میں تیزاب گردی کے خلاف کیس لڑا اور سپریم کورٹ نے سخت قوانین بنائے، لیکن افسوس کہ ان قوانین پر آج تک عمل درآمد نہ ہو سکا۔ اور بارہ سال کا بچہ بھی کھلے عام تیزاب خرید سکتا ہے، اگر ان قوانین پر عمل ہو جاتا تو آج ڈاکٹر ماہ نور زندگی کی جنگ نہ لڑ رہی ہوتیں۔ بشریٰ شیخ بھی پاکستانی تھیں جو سسرال والوں کے تشدد اور تیزاب گردی کا شکار ہوئیں۔ اب وہ ایک معروف فاؤنڈیشن کے تحت بیوٹیشن کے طور پر کام کر رہی ہیں۔
2014 میں ایران کے شہر اصفہان میں نامعلوم افراد نے حجاب درست نہ ہونے کے بہانے متعدد خواتین پر تیزاب پھینکا جس میں ایک خاتون ہلاک اور متعدد شدید زخمی ہوئی تھیں۔ اسی طرح نیپال میں مسکان خاتون پر ایک لڑکے کا رشتہ ٹھکرانے پر تیزاب پھینکا گیا جس کے بعد انھوں نے تیزاب گردی کے خلاف سخت آرڈی نینس منظور کروایا۔ بنگلہ دیش کی فریدہ شوہر کو علیحدگی کی دھمکی دینے پر تیزاب گردی کا شکار ہوئیں۔
بنگلہ دیش میں ایسے کئی کیس رپورٹ ہوئے۔ تیزاب گردی کے زیادہ تر واقعات میں رشتہ مسترد کرنے اور شادی کی پیشکش ٹھکرانے پر اوباش اور بدکردار مرد، خواتین کو تیزاب گردی کا نشانہ بناتے ہیں، بعض جگہوں پر خواتین کو اعلیٰ عہدوں پر فائز ہونے کی سزا بھی تیزاب پھینک کر دی جاتی ہے۔ وجہ تعلیم کی کمی، جہالت اور پدرسری معاشرے کا وجود ہے، بعض اوقات کم تعلیم یافتہ شوہر بھی مردانہ انا کی تسکین کے لیے بیویوں کو تیزاب پھینک کر جلانے سے باز نہیں رہتے، یوں لگتا ہے کہ یہاں درندے بستے ہیں۔











