آپریشن غضب للحق، سیکیورٹی فورسز کی بڑی کامیابیاں، سیکڑوں دہشتگرد ہلاک، درجنوں ٹھکانے تباہ
کارروائیوں کا دائرہ افغانستان کے اندر تک پھیلایا گیا جہاں 81 دہشتگرد ٹھکانوں کو فضائی حملوں میں نشانہ بنایا گیا
حکومت کی جانب سے جاری تازہ تفصیلات کے مطابق آپریشن غضب للحق میں سیکیورٹی فورسز نے بڑی کامیابیاں حاصل کرتے ہوئے دہشتگرد نیٹ ورکس کو بھاری نقصان پہنچایا ہے۔ وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر آپریشن کی تفصیلات جاری کیں۔
ان کے مطابق فتنہ الخوارج اور افغان طالبان سے وابستہ 796 کارندے ہلاک جبکہ 1043 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں، جو اس آپریشن کی شدت اور وسعت کو ظاہر کرتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق دشمن کی 286 بارڈر پوسٹیں تباہ کر دی گئیں جبکہ 44 پر قبضہ بھی کر لیا گیا۔ اس کے علاوہ 29 ٹینک، بکتر بند گاڑیاں، توپ خانہ اور ڈرونز بھی تباہ کیے گئے، جس سے ان کی عسکری صلاحیت کو شدید دھچکا پہنچا۔
کارروائیوں کا دائرہ افغانستان کے اندر تک پھیلایا گیا جہاں 81 دہشتگرد ٹھکانوں کو فضائی حملوں میں نشانہ بنایا گیا اور مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا۔
مزید برآں 2 اور 3 مارچ کی درمیانی شب غلام خان سیکٹر میں افغان طالبان کے بارڈر پوسٹ پر حملے کی کوشش کو ناکام بنا دیا گیا، جس کے دوران 37 سے زائد دہشتگرد مارے گئے۔
حکام کے مطابق یہ آپریشن سرحدی سلامتی کو یقینی بنانے اور دہشتگردی کے خاتمے کیلئے ایک اہم سنگ میل ثابت ہو رہا ہے، جبکہ سیکیورٹی فورسز ہر قسم کے خطرے سے نمٹنے کیلئے مکمل طور پر تیار ہیں۔











