صرف 4 ہفتوں میں جوانی لوٹ سکتی ہے؟ نئی تحقیق نے حیران کردیا
صرف چار ہفتوں تک متوازن اور صحت بخش خوراک اپنانے سے جسمانی عمر بڑھنے کی رفتار کم ہوسکتی ہے۔
ایک طبی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ صرف چار ہفتوں تک متوازن اور صحت بخش خوراک اپنانے سے جسمانی عمر بڑھنے کی رفتار کم ہوسکتی ہے جب کہ عمر رسیدہ افراد بھی اس کے مثبت اثرات حاصل کرسکتے ہیں۔
آسٹریلیا کی سڈنی یونیورسٹی کے ماہرین کی تحقیق کے مطابق ہر انسان کی اصل عمر تو وقت کے ساتھ یکساں بڑھتی ہے تاہم جسمانی یا حیاتیاتی عمر مختلف عوامل سے متاثر ہوتی ہے جن میں خوراک، ماحول اور طرزِ زندگی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ بہتر خوراک جسم میں سوزش، دل کی صحت، توانائی کے نظام اور دیگر جسمانی افعال پر مثبت اثر ڈالتی ہے جس سے انسان اپنے اصل عمر سے کم عمر دکھائی دے سکتا ہے۔
تحقیق کے دوران 65 سے 75 سال عمر کے افراد کو چار مختلف غذائی طریقوں پر مشتمل خوراک دی گئی۔ کچھ افراد کو سبزیوں پر مشتمل خوراک جب کہ کچھ کو گوشت اور نباتاتی اجزاء دونوں شامل غذا فراہم کی گئی۔ اس کے علاوہ مختلف گروپوں میں چکنائی اور نشاستہ کی مقدار بھی الگ رکھی گئی۔
ماہرین نے شرکاء کے جسمانی حالات جانچنے کے لئے خون کے دباؤ، شوگر، کولیسٹرول اور جسم میں سوزش ظاہر کرنے والی علامات سمیت 20 مختلف طبی اشاریوں کا جائزہ لیا۔
نتائج سے معلوم ہوا کہ جن افراد نے نسبتاً متوازن اور کم چکنائی والی غذا استعمال کی ان کی حیاتیاتی عمر میں واضح کمی دیکھی گئی جب کہ زیادہ چکنائی والی غذا استعمال کرنے والوں میں نمایاں فرق سامنے نہیں آیا۔
تحقیق کرنے والے ماہرین کے مطابق ابھی یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ خوراک میں یہ تبدیلی انسانی عمر میں یقینی اضافہ کرسکتی ہے تاہم ابتدائی نتائج ظاہر کرتے ہیں کہ بڑھاپے میں بھی غذائی عادات بہتر بناکر صحت پر مثبت اثرات مرتب کیے جاسکتے ہیں۔
ماہرین نے اس بات پر زور دیا کہ مزید طویل المدتی تحقیق کی ضرورت ہے تاکہ معلوم ہوسکے کہ بہتر خوراک عمر سے متعلق بیماریوں کے خطرات کو کس حد تک کم کرسکتی ہے۔










