ہارورڈ یونیورسٹی کے ماہرین کی ایک نئی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ مخصوص غذائی طرز اپنانا دماغی صحت کو بہتر بنانے اور ذہنی کمزوری کے خطرات کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔
تحقیق میں چھ مختلف غذائی طریقوں کا 30 سال تک جائزہ لیا گیا جس میں ایک لاکھ 59 ہزار سے زائد افراد کے غذائی عادات اور دماغی صحت کے درمیان تعلق کا مطالعہ کیا گیا۔
نتائج کے مطابق ان تمام غذائی طریقوں سے کسی نہ کسی حد تک فائدہ دیکھا گیا تاہم ایک مخصوص غذائی طرز سب سے زیادہ مؤثر ثابت ہوا جسے ڈیش ڈائٹ کہا جاتا ہے۔
یہ خوراک بنیادی طور پر بلڈ پریشر کو کنٹرول کرنے کے لیے تیار کی گئی تھی لیکن اب اسے دل اور دماغ دونوں کی صحت کے لیے مفید قرار دیا جارہا ہے۔
اس غذائی طرز میں پھل، سبزیاں، خشک میوہ جات اور کم چکنائی والی غذائیں شامل ہوتی ہیں جب کہ نمک، چینی، سرخ گوشت اور الکاحل کے استعمال کو محدود کیا جاتا ہے۔
تحقیق کے مطابق جو افراد اس غذائی طرز پر سختی سے عمل کرتے رہے ان میں ذہنی کمزوری کا خطرہ نمایاں طور پر کم دیکھا گیا۔ ایسے افراد میں یادداشت اور سوچنے سمجھنے کی صلاحیت بھی بہتر پائی گئی۔
ماہرین کے مطابق ڈیش ڈائٹ پر عمل کرنے والے افراد میں ذہنی تنزلی کا خطرہ دیگر غذائی طریقوں کے مقابلے میں زیادہ کم پایا گیا۔ اس کے ساتھ ساتھ درمیانی عمر میں اس خوراک کا اثر زیادہ نمایاں دیکھا گیا۔
تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا کہ جو لوگ طویل عرصے تک صحت مند غذائی عادات اپناتے ہیں ان کی دماغی کارکردگی عمر بڑھنے کے باوجود بہتر رہتی ہے۔
ماہرین نے کہا ہے کہ اگرچہ یہ نتائج براہِ راست وجہ اور اثر ثابت نہیں کرتے تاہم مختلف مطالعات سے یہ بات بار بار سامنے آرہی ہے کہ صحت مند غذا دماغی امراض جیسے یادداشت کی کمزوری اور دیگر مسائل کے خطرے کو کم کرسکتی ہے۔
تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ سبزیوں، مچھلی اور قدرتی غذاؤں پر مشتمل خوراک جب کہ پروسیسڈ گوشت اور میٹھی اشیا سے پرہیز مجموعی صحت کے لیے زیادہ فائدہ مند ثابت ہوسکتا ہے۔
ماہرین نے مشورہ دیا ہے کہ غذائی عادات میں تبدیلی آہستہ آہستہ کی جائے تاکہ اسے طویل مدت تک برقرار رکھا جاسکے کیونکہ مستقل مزاجی صحت کے لیے سب سے زیادہ اہم ہے۔











