جوڑوں کی بیماری کے علاج میں بڑی پیش رفت کا امکان
عمر بڑھنے کے ساتھ جوڑوں کے خراب ہونے کی بڑی وجہ ایک مخصوص پروٹین ہے۔
امریکی یونیورسٹی اسٹینفورڈ کے محققین نے ایک نئی تحقیق میں انکشاف کیا ہے کہ عمر بڑھنے کے ساتھ جوڑوں کے خراب ہونے کی بڑی وجہ ایک مخصوص پروٹین ہے جسے نشانہ بناکر جوڑوں کی مرمت اور حرکت بہتر بنانے کے امکانات پیدا ہوسکتے ہیں۔
تحقیق کے مطابق یہ پروٹین عمر بڑھنے کے ساتھ جسم میں زیادہ ہوجاتی ہے اور ان قدرتی نظاموں کو متاثر کرتا ہے جو ٹشوز کی مرمت اور سوزش کو کم کرنے میں مدد دیتے ہیں۔
چوہوں پر کیے گئے تجربات میں دیکھا گیا کہ جب اس پروٹین کو روکنے والی دوا دی گئی تو پہلے سے کمزور ہوچکی گھٹنے کی ہڈی کی تہہ دوبارہ مضبوط ہونا شروع ہوگئی۔ اسی طرح زخمی چوہوں میں بھی جوڑوں کی خرابی عام طور پر پیدا نہیں ہوئی۔
محققین کے مطابق علاج کے بعد چوہوں کے چلنے کی رفتار بہتر ہوئی اور وہ زخمی ٹانگ پر زیادہ وزن ڈالنے لگے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ درد اور کمزوری میں کمی آئی ہے۔
اسی تجربے کو انسانی ٹشو پر بھی آزمایا گیا جو گھٹنے کی سرجری کے دوران حاصل کیے گئے تھے۔ اس میں بھی جوڑوں کے ٹشو میں بہتری اور سوزش میں کمی کے آثار دیکھے گئے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ نتائج اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ جسم میں پہلے سے موجود کچھ خلیے درست سمت میں تبدیل ہوکر دوبارہ ٹشو بنانے کی صلاحیت حاصل کرسکتے ہیں۔
اگرچہ یہ تحقیق ابھی ابتدائی مراحل میں ہے لیکن ماہرین کے مطابق یہ مستقبل میں جوڑوں کی تبدیلی کے بڑے آپریشنز سے بچاؤ میں مدد دے سکتی ہے۔
ماہرین یہ بھی دیکھ رہے ہیں کہ موٹاپا اور ذیابیطس جیسے مسائل بھی جوڑوں کی بیماری کو بڑھاتے ہیں اور کچھ نئی ادویات اس عمل کو سست کرنے میں مدد دے سکتی ہیں۔
محققین کے مطابق اگر یہ تحقیق کامیاب ہوگئی تو مستقبل میں جوڑوں کے درد اور خرابی کے علاج کا انداز مکمل طور پر بدل سکتا ہے۔











