ای سگریٹ میں شامل ٹھنڈک پیدا کرنے والے کیمیکل دل کے لیے خطرناک قرار
ای سگریٹ میں شامل یہ کیمیکل دل کی برقی سرگرمی کو متاثر کرتے ہیں، تحقیق
امریکی ماہرین کی ایک نئی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ ای سگریٹ میں شامل بعض مصنوعی ٹھنڈک پیدا کرنے والے کیمیکل دل کی دھڑکن کے نظام میں خرابی پیدا کرسکتے ہیں جس سے دل کی بے قاعدہ دھڑکن اور دیگر قلبی مسائل کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
تحقیق کے دوران جانوروں اور انسانی دل کے خلیات پر تجربات کیے گئے۔ نتائج سے معلوم ہوا کہ ای سگریٹ میں شامل یہ کیمیکل دل کی برقی سرگرمی کو متاثر کرتے ہیں جس کے باعث دل کی دھڑکن معمول سے پہلے یا بے ترتیب ہوسکتی ہے۔
ماہرین کے مطابق خاص طور پر ایک مخصوص ٹھنڈک پیدا کرنے والے جزو نے دل کی بے قاعدہ دھڑکن کے واقعات میں نمایاں اضافہ کیا۔ تحقیق میں یہ بھی دیکھا گیا کہ ایسے اجزا دل پر دباؤ سے متعلق ردعمل کو بڑھاتے ہیں جو بعد ازاں سنگین قلبی پیچیدگیوں کا سبب بن سکتا ہے۔
محققین کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ کیمیکل ذائقے کے بجائے صرف ٹھنڈک کا احساس پیدا کرتے ہیں لیکن ان کا استعمال ای سگریٹ استعمال کرنے والوں کے لیے اضافی خطرات پیدا کرسکتا ہے۔
تحقیق کی سربراہ ٹیم کے مطابق یہ پہلی تحقیق ہے جس میں واضح شواہد ملے ہیں کہ مصنوعی ٹھنڈک پیدا کرنے والے اجزا دل کی صحت پر منفی اثرات مرتب کرسکتے ہیں۔
ماہرین نے متعلقہ اداروں پر زور دیا ہے کہ ایسے اجزا کے استعمال اور مقدار کے بارے میں قواعد و ضوابط پر نظرثانی کی جائے۔
تحقیق میں یہ بھی نشاندہی کی گئی کہ نوجوانوں میں ٹھنڈک کا احساس دینے والی مصنوعات کی مقبولیت تیزی سے بڑھ رہی ہے جس کے باعث صحت عامہ کے حوالے سے خدشات میں اضافہ ہورہا ہے۔
ماہرین نے والدین کو مشورہ دیا ہے کہ وہ بچوں اور نوجوانوں کو ای سگریٹ کے ممکنہ نقصانات سے آگاہ کریں کیونکہ ایسی مصنوعات مکمل طور پر محفوظ نہیں سمجھی جاتیں۔








