ایران مثبت رویہ اختیار کرے تو اربوں ڈالر کے فنڈ تک رسائی مل سکتی ہے، ٹرمپ
امریکا اور ایران کے درمیان جاری سفارتی عمل میں 60 روزہ مدت کوئی حتمی ڈیڈ لائن نہیں ہے
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اگر ایران مثبت اور تعمیری رویہ اختیار کرتا ہے تو اسے تقریباً 300 ارب ڈالر کے منجمد فنڈز تک رسائی دی جا سکتی ہے جبکہ دونوں ممالک کے درمیان مختلف معاملات پر جاری مذاکرات میں پیش رفت کے امکانات بھی موجود ہیں۔
اپنے بیان میں صدر ٹرمپ نے واضح کیا کہ امریکا اور ایران کے درمیان جاری سفارتی عمل میں 60 روزہ مدت کوئی حتمی ڈیڈ لائن نہیں ہے۔ مذاکرات کی کامیابی کے لیے دونوں فریقوں کا مثبت رویہ اور اعتماد سازی انتہائی ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایران کے اربوں ڈالر کے اثاثے مختلف پابندیوں کے باعث منجمد ہیں تاہم اگر تہران بین الاقوامی توقعات کے مطابق تعمیری رویہ اختیار کرتا ہے تو ان فنڈز تک رسائی کے حوالے سے پیش رفت ممکن ہے۔
ٹرمپ کے مطابق ایران نے اس بات پر آمادگی ظاہر کی ہے کہ وہ نہ جوہری ہتھیار تیار کرے گا اور نہ ہی اس کے حصول کی کوشش کرے گا۔ جوہری پروگرام سے متعلق تکنیکی سطح کے مذاکرات جلد شروع ہونے کی توقع ہے۔
امریکی صدر نے مزید دعویٰ کیا کہ اسرائیلی قیادت ممکنہ معاہدے پر اطمینان کا اظہار کر رہی ہے اور مذاکرات کے نتائج کو مثبت سمجھ رہی ہے۔
انہوں نے پاکستان اور قطر کے کردار کو بھی سراہتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک نے سفارتی کوششوں کے ذریعے مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانے اور فریقین کے درمیان رابطوں میں اہم کردار ادا کیا ہے۔








