اسلام آباد ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ میں پمز اسپتال میں مبینہ طور پر نومولود بچے کو والدہ کے حوالے نہ کیے جانے کے معاملے پر سماعت ہوئی۔
کیس کی سماعت ایڈیشنل سیشن جج محمد علی وڑائچ نے کی۔ عدالت نے پمز انتظامیہ سے دوپہر 2 بجے تک معاملے کی رپورٹ طلب کر لی، جبکہ اسلام آباد پولیس کو بھی ہدایت کی کہ پمز اسپتال کا دورہ کر کے اپنی رپورٹ عدالت میں پیش کرے۔
درخواست بچے کی نانی نسرین بی بی کی جانب سے دائر کی گئی، جس میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ مہناز بی بی نے پمز اسپتال میں بچے کو جنم دیا، تاہم پیدائش کے بعد نومولود کو والدہ کے حوالے نہیں کیا جا رہا۔
درخواست گزار کے مطابق تمام قانونی کارروائی مکمل ہونے کے باوجود پمز کے گائنی ڈیپارٹمنٹ نے نومولود بچے کو غیر قانونی طور پر روک رکھا ہے۔
درخواست میں الزام عائد کیا گیا کہ پمز کی ایک ہیڈ نرس نے بچے کی حوالگی کے عوض اہل خانہ سے 5 لاکھ روپے طلب کیے اور مبینہ طور پر کہا کہ رقم نہ دینے کی صورت میں بچہ والدہ کے حوالے نہیں کیا جائے گا۔
درخواست میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا کہ رقم ادا نہ کرنے کی صورت میں نومولود کو نامعلوم افراد کے حوالے کرنے کی دھمکیاں دی گئیں۔
متاثرہ خاندان نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ نومولود بچے کو فوری طور پر والدہ کے حوالے کرنے کے احکامات جاری کیے جائیں۔









