پاکستان ہاکی، ایک نئے روشن مستقبل کی جانب گامزن

پاکستان ہاکی، ایک نئے روشن مستقبل کی جانب گامزن


پاکستان ہاکی اس وقت ایک اہم موڑ پر کھڑی ہے، جہاں صرف ماضی کی کامیابیوں کو یاد کرنا کافی نہیں بلکہ سمجھداری، مستقل مزاجی اور منظم منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔

کئی برسوں تک قومی کھیل صرف سنہری یادوں اور مسلسل ناکامیوں کے درمیان پھنسا رہا لیکن اب پہلی بار ایسا محسوس ہورہا ہے کہ ہاکی کو صرف جذباتی انداز میں نہیں بلکہ مضبوط بنیادوں پر دوبارہ کھڑا کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔

اصلاح الدین صدیقی، حسن سردار، سمیع اللہ خان، منظور حسین سینئر، ایاز محمود، نعیم اختر، خواجہ جنید، قمر ابراہیم، ناصر علی، ریحان بٹ اور شکیل عباسی جیسے سابق عظیم کھلاڑیوں کی دوبارہ شمولیت صرف نمائشی اقدام نہیں بلکہ یہ تجربے، کامیاب روایات اور بین الاقوامی معیار کی سوچ کی واپسی ہے۔

آج کی ہاکی پہلے جیسی نہیں رہی، اب یہ صرف مہارت اور خوبصورت کھیل کا نام نہیں بلکہ جدید فٹنس، سائنسی تربیت، نفسیاتی تیاری، حکمت عملی، تیز رفتار کھیل اور درست فیصلوں کا مجموعہ بن چکی ہے۔ اب کامیابی کے لیے جسمانی طاقت، تیز رفتار اٹیک، مضبوط دفاع اور پنالٹی کارنرز میں مہارت بہت اہم ہوگئی ہے۔

خوش آئند بات یہ ہے کہ موجودہ انتظامیہ ان تمام تقاضوں کو سمجھتی دکھائی دیتی ہے۔ محی الدین احمد وانی، سیکرٹری اور موجودہ انتظامی ڈھانچے کی قیادت میں یہ احساس موجود ہے کہ ہاکی کی بحالی صرف مختصر کیمپوں یا جذباتی تقاریر سے ممکن نہیں۔ اس کے لیے مستقل نظام، تسلسل، ٹیلنٹ کی تلاش، بین الاقوامی تجربہ اور سائنسی انداز میں کھلاڑیوں کی تربیت ضروری ہے۔

سینئر، جونیئر اور انڈر 18 ٹیموں کے لیے سابق لیجنڈز پر مشتمل ’’پروفیشنل ڈویلپمنٹ پینل‘‘ بنانا اس بات کی علامت ہے کہ اب وقتی فیصلوں کے بجائے طویل المدتی منصوبہ بندی پر کام کیا جارہا ہے۔

پاکستان ہاکی کے شائقین نے مایوسی کے باوجود ہمیشہ اس کھیل سے محبت برقرار رکھی ہے۔ پاکستانی عوام آج بھی گرین شرٹ کے ساتھ جذباتی وابستگی رکھتے ہیں۔ وہ صرف بڑے دعوے نہیں بلکہ عملی اقدامات دیکھنا چاہتے ہیں۔ عوام یہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ ہاکی اب ایسے لوگوں کے ہاتھ میں ہے جو اس کھیل کی روح، ضروریات اور مستقبل کو سمجھتے ہیں۔

جاپان، انگلینڈ اور بیلجیئم کے دوروں کو صرف میچز نہیں بلکہ سیکھنے کے مواقع سمجھنا چاہیے۔ جدید ہاکی کے طریقوں، تیز کھیل اور عالمی معیار کے ماحول سے ہی پاکستانی کھلاڑی دنیا کی بڑی ٹیموں کا مقابلہ کرنا سیکھ سکتے ہیں۔ اگر اس دوران ناکامیاں بھی ہوں تو انہیں سیکھنے کے عمل کا حصہ سمجھنا چاہیے۔

یہ بھی حقیقت ہے کہ پاکستان ہاکی کئی دہائیوں سے زوال کا شکار رہی ہے جس کی وجہ کمزور ڈومیسٹک نظام، ناقص انتظامیہ، جدید اسپورٹس سائنس کی کمی اور ادارہ جاتی سپورٹ کا ختم ہونا ہے۔ اسی لیے دوبارہ عالمی سطح پر پہنچنے کے لیے صبر، مستقل مزاجی اور مضبوط منصوبہ بندی کی ضرورت ہوگی۔

اسی وجہ سے موجودہ انتظامیہ اور ٹیکنیکل ٹیم کو وقت دیا جانا چاہیے تاکہ یہ نظام بہتر نتائج دے سکے۔ سابق اولمپیئنز اور ہاکی سے محبت رکھنے والے افراد کو بھی چاہیے کہ وہ فوری نتائج نہ آنے پر تنقید یا رکاوٹیں پیدا کرنے کے بجائے اس عمل کا ساتھ دیں۔ دنیا میں ہر کامیاب کھیل کی بحالی طویل منصوبہ بندی سے ہی ممکن ہوئی ہے۔

پاکستان کے ہر ضلع میں ہاکی کوآرڈینیٹر مقرر کیے جائیں جو صرف نام کے عہدیدار نہ ہوں بلکہ ٹیلنٹ تلاش کرنے، اسکول کی سطح پر ہاکی کے فروغ اور مقامی ٹورنامنٹس کے انعقاد کے ذمہ دار ہوں۔

اسی طرح مسلح افواج کے کردار کو بھی مزید بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔ پاک فوج نے ماضی میں کھیلوں کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ اگر ملک بھر میں فوج کے مختلف فارمیشنز میں جدید ہاکی اکیڈمیاں قائم کی جائیں تو اس سے نوجوان کھلاڑیوں کو عالمی معیار کی تربیت مل سکتی ہے۔

سب سے اہم بات یہ ہے کہ ہاکی کو صرف کھیل نہیں بلکہ ایک صنعت کے طور پر دیکھنا ہوگا۔ اس کے لیے کارپوریٹ اسپانسرشپ، میڈیا کوریج، ڈیجیٹل مارکیٹنگ، لیگ سسٹم، اسپورٹس ٹورازم اور بین الاقوامی تعاون ضروری ہے۔ جب سرمایہ کاری بڑھے گی تو کھلاڑیوں کی سہولیات، کوچنگ، گراؤنڈز اور بین الاقوامی مواقع بھی بہتر ہوں گے۔

وزیراعظم شہباز شریف سے مطالبہ ہے کہ وہ ہاکی کے چیف پیٹرن کی حیثیت سے اس کھیل کی بحالی کے لیے پالیسیوں میں تسلسل اور ادارہ جاتی استحکام یقینی بنائیں کیونکہ کھیلوں کی ترقی کے لیے مضبوط اور مستقل قیادت ضروری ہوتی ہے۔

پاکستان ہاکی کی اصل کامیابی صرف چند فتوحات یا رینکنگ بہتر ہونے سے نہیں ہوگی بلکہ اس وقت ہوگی جب ملک میں ایسا مضبوط نظام بن جائے جو مسلسل نئے باصلاحیت کھلاڑی پیدا کرتا رہے اور ہر چند سال بعد بحران کا شکار نہ ہو۔

اب قیادت، تجربہ، منصوبہ بندی اور نیت ایک سمت میں نظر آرہی ہے۔ صحیح لوگ ذمہ داری سنبھال رہے ہیں اور درست بات چیت شروع ہوچکی ہے۔ اگر یہی تسلسل برقرار رہا تو پاکستان ہاکی ایک بار پھر دنیا میں اپنا کھویا ہوا مقام حاصل کرسکتی ہے۔



Source link

Iran’s participation in FIFA World Cup confirmed | Express News
malir jail abduction murder cases accused deceived administration escaped | Express News

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

عاصم اظہر نے مائیکل جیکسن کا انداز اپنا لیا، مداح جھوم اٹھے
عاصم اظہر نے مائیکل جیکسن کا انداز اپنا لیا، مداح جھوم اٹھے
previous arrow
next arrow
Categories
Archives
My Cart
Recently Viewed
Categories
Compare Products (0 Products)