ایران کا امریکا کے ساتھ مذاکرات جاری رکھنے کا فیصلہ، غیرضروری شرائط تسلیم کرنے سے انکار
ایران اپنے قومی مفادات کے تحفظ کے لیے ہر ضروری اقدام کرے گا
ایران نے امریکا کے ساتھ مذاکرات جاری رکھنے کا فیصلہ کیا اور ساتھ ہی یہ واضح کر دیا ہے کہ وہ کسی بھی صورت میں ”غیر ضروری مطالبات“ کو قبول نہیں کرے گا۔
ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی کمیٹی کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے قطری ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران کی مذاکراتی پالیسی مکمل طور پر قومی مفادات اور سیکیورٹی تقاضوں کے مطابق طے کی جاتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایران اپنے قومی مفادات کے تحفظ کے لیے ہر ضروری اقدام کرے گا اور موجودہ مذاکرات کو کسی حد تک ”میدانِ جنگ کا تسلسل“ بھی سمجھا جا رہا ہے۔
انکا کہنا تھا کہ اگر مذاکرات کے نتائج ایران کے لیے فائدہ مند ہوں تو یہ ایک موقع ہو سکتا ہے لیکن دباؤ یا غیر ضروری شرائط کسی صورت قابل قبول نہیں ہوں گی۔
ابراہیم عزیزی نے واضح کیا کہ ایران نے اپنی ریڈ لائنز مقرر کر رکھی ہیں جن کا احترام ضروری ہے، مذاکرات کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ ہر شرط تسلیم کر لی جائے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ مستقبل میں مذاکراتی وفد کی اسلام آباد روانگی کا فیصلہ صورتحال کے جائزے اور فریقین کے مثبت اشاروں پر منحصر ہوگا۔
دوسری جانب ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ ایران امریکا کے ساتھ مذاکرات جاری رکھے ہوئے ہے لیکن ساتھ ہی کسی بھی ممکنہ کشیدگی یا جنگی صورتحال کے لیے مکمل طور پر تیار بھی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایران ایک طرف سفارتی عمل کو آگے بڑھا رہا ہے جبکہ دوسری طرف اپنی قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کر رہا ہے۔
اسپیکر ایرانی پارلیمنٹ محمد باقر نے مزید کہا کہ ایران کو مخالف فریق پر اعتماد نہیں، اس لیے صورتحال کسی بھی وقت تبدیل ہو سکتی ہے۔











