یروشلم: اسرائیل کے وسطی علاقے میں مقبوضہ مغربی کنارے کے قریب فائرنگ کے ایک واقعے میں ایک شخص ہلاک جبکہ پانچ دیگر زخمی ہوگئے۔ اسرائیلی حکام نے واقعے کو مشتبہ دہشت گرد حملہ قرار دیتے ہوئے بتایا ہے کہ حملہ آور کو موقع پر ہی ہلاک کر دیا گیا۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق فائرنگ کا واقعہ اتوار کے روز وسطی اسرائیل میں پیش آیا۔ اسرائیلی پولیس کا کہنا ہے کہ حملہ آور نے مختلف مقامات پر فائرنگ کی جس کے بعد سکیورٹی فورسز نے فوری کارروائی کرتے ہوئے اسے ’نیوٹرلائز‘ کر دیا، تاہم حملہ آور کی شناخت فوری طور پر ظاہر نہیں کی گئی۔
اسرائیلی پولیس کے مطابق واقعے کے بعد علاقے میں بھاری نفری تعینات کر دی گئی ہے اور مزید ممکنہ خطرات کے پیش نظر سرچ آپریشن جاری ہے۔
اسرائیلی ایمبولینس سروس کے مطابق فائرنگ کے نتیجے میں 35 سالہ شخص گولی لگنے سے ہلاک ہوگیا جبکہ پانچ افراد زخمی ہوئے۔ زخمیوں میں دو افراد کی حالت تشویشناک بتائی گئی ہے جبکہ دیگر کو طبی امداد کے لیے قریبی اسپتال منتقل کر دیا گیا۔
رپورٹس کے مطابق فائرنگ کے واقعات وسطی اسرائیل کے تین مختلف مقامات پر پیش آئے جو فلسطینی شہر قلقیلیہ کے قریب واقع ہیں۔ واقعے کے بعد سکیورٹی اداروں نے پورے علاقے میں نگرانی اور چیکنگ کا عمل مزید سخت کر دیا ہے۔
فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس نے حملے کو سراہتے ہوئے بیان جاری کیا، تاہم تنظیم نے اس کارروائی کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔
دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے واقعے کے بعد سکیورٹی صورتحال کا جائزہ لیا اور کہا کہ وہ اس مہلک فائرنگ حملے سے متعلق مسلسل معلومات حاصل کر رہے ہیں۔ اسرائیلی حکومت نے واقعے کی مکمل تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔
یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب خطے میں سکیورٹی صورتحال پہلے ہی کشیدہ ہے اور اسرائیل و فلسطینی علاقوں میں حالیہ مہینوں کے دوران تشدد کے متعدد واقعات رونما ہو چکے ہیں۔









