امریکا اور ایران نے طے شدہ وقت سے پہلے معاہدے پر دستخط کردیے، تہران کی تصدیق
امریکا اور ایران کے صدور نے معاہدے پر باضابطہ دستخط کیے اور اب یہ معاہدہ نافذ العمل ہوچکا ہے
معروف امریکی جریدے ایگزیوس نے تصدیق کی ہے کہ امریکا اور ایران نے طے شدہ وقت سے پہلے ہی جنگی ماحول کے خاتمے اور آبنائے ہرمز کی بحالی سے متعلق مفاہمتی یادداشت پر الیکٹرانک دستخط کر دیے ہیں جس کے بعد معاہدہ باضابطہ طور پر نافذالعمل ہوگیا ہے۔
امریکی عہدیداروں کا کہنا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے معاہدے پر خود دستخط کیے جبکہ دستخط کی تقریب فرانس میں صدر ایمانوئل میکرون کی موجودگی میں ہوئی تاہم وائٹ ہاؤس نے بھی اس معاہدے پر دستخط کی تصدیق کی ہے۔
ایران کی وزارت خارجہ اور ترجمان اسماعیل بقائی نے بھی الیکٹرانک دستخط کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا اور ایران کے صدور نے معاہدے پر باضابطہ دستخط کیے ہیں اور اب یہ جنگ بندی اور مفاہمت کا معاہدہ نافذ العمل ہوچکا ہے۔
رپورٹس کے مطابق امریکا اور ایران کے اعلیٰ سطحی وفود کی ملاقات جمعہ کو سوئٹزرلینڈ میں طے ہ، جس میں امریکی وفد کی قیادت جے ڈی وینس جبکہ ایرانی وفد کی قیادت اسپیکر باقر قالیباف کریں گے۔
ذرائع کے مطابق دستخط شدہ معاہدہ ایران، امریکا اور ثالث ممالک کو ارسال کر دیا گیا ہے اور اس کی نقول بھی متعلقہ فریقین تک پہنچ چکی ہیں۔
اس حوالے سے ایرانی ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ ایران کی دفاعی صلاحیتیں اور میزائل پروگرام مذاکرات کا حصہ نہیں ہیں اور اس پر کسی قسم کی بات چیت نہیں کی جائے گی۔ ایران کے میزائل دفاعی مقصد کے لیے ہیں اور ان پر بیرونی دباؤ قبول نہیں کیا جائے گا۔








