بلڈ پریشر جانچنے کا نیا فارمولا سامنے آگیا
وزن اور قد کا عام پیمانہ طویل عرصے سے وزن اور موٹاپے کی پیمائش کے لیے استعمال ہوتا رہا ہے۔
ایک نئی تحقیق کے مطابق کمر اور قد کے تناسب سے ہائی بلڈ پریشر کا خطرہ جانچنے میں وزن اور قد کے عام پیمانے کے مقابلے میں زیادہ درستگی ہوتی ہے۔
فن لینڈ اور امریکا کے محققین نے بتایا کہ کمر اور قد کا تناسب بلڈ پریشر بڑھنے اور ہائی بلڈ پریشر کے شکار افراد کی نشاندہی کرنے میں زیادہ مفید ہے۔
وزن اور قد کا عام پیمانہ طویل عرصے سے وزن اور موٹاپے کی پیمائش کے لیے استعمال ہوتا رہا ہے لیکن اس کی درستگی پر اب سوال اٹھ رہے ہیں۔
مسئلہ یہ ہے کہ یہ پیمانہ وزن اور قد کا موازنہ تو کرتا ہے لیکن اس میں چربی اور پٹھوں کے درمیان فرق نہیں کیا جاسکتا۔ اضافی چربی ذیابیطس جیسی بیماریوں کا خطرہ بڑھاتی ہے جب کہ پٹھوں کا زیادہ ہونا فائدہ مند ہوتا ہے۔
محققین نے کمر اور قد کے تناسب کی تین قسمیں متعارف کروائی ہیں جو کہ معمولی چربی، زیادہ چربی اور بہت زیادہ چربی ہے۔
محققین نے نتیجہ اخذ کیا کہ یہ زمرے وزن اور قد کے عام پیمانے کے مقابلے میں ہائی بلڈ پریشر کے خطرے کو بہتر طریقے سے ظاہر کرتے ہیں۔
یونیورسٹی آف ایسٹرن فن لینڈ کی ماہر مہیدیرے علی کا کہنا ہے کہ کمر اور قد کا تناسب ایک آسان اور سستا طریقہ ہے جو مختلف نسلی پس منظر اور عمر کے گروپوں میں مستقل نتائج دیتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ یہ ابتدائی جانچ کو مضبوط کرسکتا ہے اور موٹاپے سے منسلک امراض قلب کے خطرے کو بہتر طریقے سے جانچ سکتا ہے۔
اس سے قبل کی گئی تحقیقوں میں بھی یہ ثابت ہوچکا ہے کہ کمر اور قد کا تناسب ٹائپ ٹو ذیابیطس اور جگر کی چربی کی بیماری کا خطرہ جانچنے میں کارآمد ہے۔











