کولمبو: سری لنکا میں مچھروں سے پھیلنے والے ڈینگی بخار کے کیسز میں تشویش ناک اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
سری لنکا میں رواں سال کے آغاز سے اب تک 44 ہزار سے زائد افراد ڈینگی کے مرض کا شکار ہوچکے ہیں جب کہ 28 اموات بھی رپورٹ ہوئی ہیں۔ بڑھتے ہوئے مریضوں کے باعث سرکاری اسپتالوں پر دباؤ میں اضافہ ہورہا ہے۔
سری لنکن حکام کے مطابق ڈینگی بخار عموماً برسات کے موسم میں پھیلتا ہے تاہم اس سال غیر منصوبہ بند شہری آبادی میں اضافے اور گزشتہ برس آنے والے سمندری طوفان کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال نے بیماری کے پھیلاؤ میں مزید شدت پیدا کردی ہے۔
قومی ادارۂ انسداد ڈینگی کے اعداد و شمار کے مطابق اپریل میں ڈینگی کے 5 ہزار 651 کیسز رپورٹ ہوئے تھے جب کہ جون کے پہلے دو ہفتوں میں یہ تعداد بڑھ کر 10 ہزار 638 تک پہنچ گئی۔
ادارے کے ترجمان اور ماہر معالج ڈاکٹر پراشیلا سماراویرا نے بتایا کہ طوفان کے بعد مختلف علاقوں میں ملبہ اور کھڑا پانی جمع ہونے سے مچھروں کی افزائش کے لیے سازگار ماحول پیدا ہوا جس کے نتیجے میں بیماری تیزی سے پھیلی۔
حکام کے مطابق گزشتہ پورے سال کے دوران 51 ہزار ڈینگی کے مریض سامنے آئے تھے تاہم رواں سال صرف چند ماہ میں ہی مریضوں کی تعداد خطرناک حد تک بڑھ چکی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ آئندہ دو ہفتوں تک بیماری میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے۔
سری لنکا کے وزیر صحت نے خبردار کیا ہے کہ اگر مریضوں کی تعداد میں مزید اضافہ ہوا تو سرکاری طبی مراکز پر شدید دباؤ پڑسکتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق ملک کے مغربی علاقوں میں سب سے زیادہ کیسز سامنے آئے ہیں جن میں دارالحکومت کولمبو بھی شامل ہے جہاں 9 ہزار 429 مریض رپورٹ ہوئے۔ ملک کے دیگر آٹھ اضلاع میں بھی دو ہزار سے زائد مریض سامنے آچکے ہیں۔
حکام نے بتایا کہ ڈینگی سے ہونے والی 28 اموات میں پانچ بچے بھی شامل ہیں جب کہ ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر موجودہ صورتحال برقرار رہی تو مریضوں کی تعداد 2019 کے بڑے وبائی پھیلاؤ کے برابر پہنچ سکتی ہے جس دوران ایک لاکھ پانچ ہزار سے زائد افراد ڈینگی کا شکار ہوئے تھے۔
بیماری کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے حکومت نے ملک بھر میں خصوصی صفائی مہم شروع کردی ہے جس کے تحت تعلیمی اداروں، گھروں، زیر تعمیر عمارتوں اور سرکاری مقامات کی صفائی کا عمل جاری ہے۔











