اگست 2024 میں شیخ حسینہ واجد کی حکومت کے خاتمے کے بعد یہ پہلا موقع ہے جب کل بروز جمعرات 12 فروری 2026 کو بنگلادیش میں عام انتخابات کا انعقاد ہونے جارہا ہے۔
یہ انتخابات صرف بنگلادیش کی سیاست تک محدود نہیں بلکہ جنوبی ایشیا میں طاقت کے توازن، اقتصادی تعلقات اور بین الاقوامی تعاون کے تناظر میں بہت اہمیت کے حامل ہیں۔
خاص طور پر پاکستان کے لیے یہ انتخابات کئی سطحوں پر اثرات رکھتے ہیں جن میں سیاسی، اقتصادی، دفاعی اور سیکیورٹی کے عوامل شامل ہیں۔
حسینہ واجد کی برطرفی کے بعد ملک میں شفاف اور منصفانہ انتخابات کے انعقاد کے لیے نوبل انعام یافتہ محمد یونس عبوری حکومت کی قیادت کررہے ہیں۔
حسینہ واجد کون؟
حسینہ واجد بنگلادیش کے بانی شیخ مجیب الرحمان کی بیٹی ہیں، جنہیں مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے صرف 4 سال کے اندر ہی 15 اگست 1975 کو قتل کردیا گیا تھا۔ وہ ہمیشہ سے پاکستان مخالف رہے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ ان کی بیٹی حسینہ واجد کے دور اقتدار میں کبھی پاکستان اور بنگلادیش کے درمیان تعلقات میں بہتری نہیں آئی کیونکہ وہ بھارت کے انتہائی قریب سمجھی جاتی تھی۔
2009 سے 2024 کے دوران تقریباً 15 سال وہ حکومت پر قابض رہیں اور اس دوران ان پر سنگین الزامات عائد ہوئے جن میں مخالفین کے خلاف انتقامی کارروائیاں شامل ہیں۔
حسینہ واجد کی حکومت کا خاتمہ کیسے ہوا؟
یونیورسٹیوں اور سرکاری ملازمتوں میں کوٹہ کا ایشو لے کر طلبہ سڑکوں پر نکلے اور تعلیمی اداروں سے نکلنے والی اس تحریک نے چند ہی مہینوں میں برسوں سے مضبوط دکھائی دینے والے سسٹم کو زمین بوس کردیا۔
حکومت مخالف مظاہروں میں 1400 افراد اپنی زندگی کی بازی ہار گئے جن میں سے اکثریت شیخ حسینہ کے حکم پر کیے گئے سکیورٹی کریک ڈاؤن میں مارے گئے۔
بنگلادیش میں اٹھنے والی یہ بغاوت دنیا بھر میں جنریشن زی کا پہلا اور سب سے کامیاب احتجاج سمجھی جارہی ہے۔ بنگلادیش کے کچھ طلبہ رہنما عبوری حکومت میں بھی اہم عہدوں پر فائض ہیں۔
شیخ حسینہ کی عوامی لیگ اور حریف بنگلادیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کی دہائیوں کی حکمرانی کے بعد اب ان سے توقع کی جارہی ہے کہ وہ ملک کی مستقبل کی انتظامیہ میں اہم کردار ادا کریں گے۔
لیکن جیسے جیسے عام انتخابات قریب آرہے ہیں طلبہ کی نئی تشکیل شدہ سیاسی جماعت بھی بری طرح تقسیم کا شکار نظر آرہی ہے۔
عوامی لیگ پر پابندی عائد ہے اور دہائیوں سے قائم جماعتیں ہی اس خلا کو پر کرتی نظر آرہی ہیں جب کہ شیخ حسینہ واجد آج بھارت میں جلاوطنی کی زندگی گزار رہی ہیں۔
بنگلادیش کی معاشی صورتحال
اس وقت بنگلادیش میں عام آدمی کی زندگی آسان نہیں، تقریباً 482 ارب ڈالر کی معیشت رکھنے والے ملک میں مہنگائی نے متوسط اور غریب آدمی کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے۔
اس وقت نوجوانوں میں مہنگائی کی شرح 10 سے 11 فیصد ہے جب کہ تقریباً 85 لاکھ نوجوانوں کو تعلیم اور روزگار کے مواقع حاصل نہیں۔
یہی طبقہ موجودہ الیکشن میں فیصلہ کن کردار ادا کرسکتا ہے اور اس کے اثرات سرحدوں کے پار بھی محسوس کیے جاسکیں گے اور اسی لیے یہ الیکشن محض داخلہ معاملہ نہیں رہا ہے۔
بھارت کے لیے یہ انتخابات کیوں اہم ہیں؟
موجودہ انتخابات بھارت کے لیے کڑا امتحان ہوگا کیونکہ ماضی میں وہ اہم تجارتی شراکت دار رہا ہے، 2023 تا 24 کے دوران دونوں ممالک کے مابین تجارت کا حجم تقریباً 13ارب ڈالر تھا۔
حسینہ واجد کے روپ میں بھارت کو ایک قابل اعتماد ساتھی میئسر تھا لیکن اب وہ اعتماد ختم ہوچکا ہے اور بھارت کو خدشہ ہے کہ اگر سخت گیر قوم پرست یا مذہبی بیانیہ رکھنے والی حکومت آئی تو اس کی مشرقی سرحد پر سیکیورٹی چیلنجز بڑھ سکتے ہیں۔
بنگلادیش میں بھارت مخالف جذبات تیزی سے ابھر رہے ہیں اور اس کی کئی تازہ مثالیں ہمارے پاس موجود ہیں تاہم بھارت کے لیے بنگلادیش کو مکمل طور پر نظر انداز کرنا ممکن نہیں۔
پاکستان سے بڑھتی قربت
پاکستان اور بنگلادیش کے مابین براہ راست پروازوں کی بحالی کو اہم پیشرفت قرار دیا جارہا ہے جب کہ دونوں ممالک کے درمیان تجارتی حجم میں بھی خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے۔
مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے بعد پہلی بار پاکستان نے بنگلادیش کو براہِ راست 50 ہزار ٹن چاول برآمد کیا جو کہ ایک اہم سفارتی اور اقتصادی سنگ میل ہے۔
مزید برآں دونوں ممالک نے باہمی تعلقات کے فروغ کے لیے متعدد معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے جس میں تعلیمی راہداری، اسکالرشپس اور تربیتی پروگرام شامل ہیں۔
یہ تبدیلیاں اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ بنگلادیش میں سیاسی حکومت اور انتخابی نتائج پاکستان کے لیے ایک نیا جغرافیائی اور سفارتی منظرنامہ تشکیل دے سکتے ہیں۔
پاکستان اور بنگلادیش نے دفاعی تعاون بھی بڑھانا شروع کردیے ہیں اور حال ہی میں دونوں ممالک کے درمیان جے ایف 17 تھنڈر لڑاکا طیاروں کی ممکنہ خریداری پر بات چیت ہوئی ہے جس سے فوجی تعلقات مزید مضبوط ہوسکتے ہیں
تاہم یہ مذاکرات ابھی تک رسمی معاہدہ تو نہیں بن سکے مگر دونوں ممالک کی فضائی افواج کے سربراہان نے اسلام آباد میں ملاقاتیں کیں اور دفاعی تعاون کے ممکنہ شعبوں پر بات چیت بھی کی۔
یہ دفاعی مذاکرات پاکستان کے لیے نہ صرف فوجی صنعت کی برآمدات کو فروغ دینے کا موقع ہیں بلکہ خطے میں سیکیورٹی تعاون میں نئے باب کے آغاز کے طور پر بھی دیکھا جارہا ہے۔
کھیل کے ذریعے سفارتی یکجہتی
موجودہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کے دوران پاک بنگلادیش تعلقات نے ایک اہم سفارتی پیغام دیا۔ ابتدائی طور پر بنگلادیش نے بھارت میں اپنے میچز کھیلنے سے انکار کیا جس کے بعد آئی سی سی نے میچ شیڈول میں تبدیلی کی۔
اس مرحلے پر پاکستان نے بھارت کے خلاف میچ کا بائیکاٹ کرنے کا اعلان کیا جسے عوامی اور میڈیا میں بنگلادیش کے ساتھ اظہار یکجہتی کے طور پر دیکھا گیا۔
بعد ازاں پاکستان نے بنگلادیش کے صدر کی درخواست پر اپنا مؤقف تبدیل کیا اور بھارت کے خلاف میچ کھیلنے کا فیصلہ کیا جب کہ اس دوران چیئرمین پی سی بی محسن نقوی کے کردار کو بھی جھٹلایا نہیں جاسکتا۔
یہ اقدام دونوں ممالک کے تعلقات میں مثبت اسپورٹس مین اسپرٹ اور تعاون کو ظاہر کرتا ہے اور خطے میں سفارتی تعلقات کی مضبوطی کی ایک علامت کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔
انتخابات میں کس کا پلڑا بھاری نظر آرہا ہے؟
بنگلادیش کے انتخابات میں بنگلادیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) اور اس کا نصف درجن سے زائد چھوٹی جماعتوں کا اتحاد جب کہ جماعت اسلامی کے 11 جماعتی اتحاد میں مقابلہ متوقع ہے۔
بغاوت سے جنم لینے والی جین زی کی نئی جماعت (نیشنل سٹیزن پارٹی) بھی جماعت اسلامی کا ساتھ دے رہی ہے۔ مجموعی طور پر 51 جماعتیں 1981 نشستوں پر مقابلہ کررہی ہیں اور 249 آزاد امیدوار بھی میدان میں موجود ہیں۔
بی این پی کے اتحاد کو معمولی برتری حاصل ہے کیونکہ اس کے نمائندے 300 میں سے 292 نشستوں پر براہ راست انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں۔
اس کے برعکس جماعت اسلامی 224 نشستوں اور این سی پی نے 30 نشستوں پر اپنے امیدوار اتارے ہیں۔ لاکھوں نئے اور نوجوان ووٹرز کی شمولیت کے باعث نتائج بنگلادیش کے سیاسی منظرنامے کو تبدیل کرسکتے ہیں۔











