ایک کلو میٹر بلند دنیا کی سب سے بلند عمارت کہاں تک پہنچ چکی؟
عمارت کی بیرونی دیواریں ایسی ڈیزائن کی گئی ہیں کہ اندر توانائی کی کھپت کم سے کم رہے
دنیا کی بلندیوں پر راج کرنے والا دبئی کا برج الخلیفہ اب تنہا نہیں رہے گا۔ سعودی عرب میں زیرِ تعمیر جدہ ٹاور خاموشی سے تاریخ رقم کرنے کے قریب پہنچ چکا ہے اور یہ تاریخ صرف ریکارڈ کی نہیں، انجینئرنگ کے کمال کی ہے۔
تازہ ترین پیش رفت کے مطابق جدہ ٹاور کی 80 سے زائد منزلیں مکمل ہو چکی ہیں۔ یہ وہ سنگِ میل ہے جس کے بعد یہ منصوبہ ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔
یاد رہے کہ اس ٹاور کی تعمیر 2013 میں شروع ہوئی تھی، مگر مالی مسائل اور بعد ازاں وبا کے باعث 2018 میں کام روک دیا گیا۔ اب 2025 میں دوبارہ رفتار پکڑنے کے بعد منصوبہ اپنے اصل خواب کی طرف بڑھ رہا ہے۔
یہ عمارت مکمل ہونے پر 3280 فٹ (ایک کلو میٹر سے زائد) بلندی کے ساتھ دنیا کی پہلی 1 کلومیٹر بلند عمارت ہوگی—یوں 163 منزلہ، 2722 فٹ بلند برج الخلیفہ کا ریکارڈ ٹوٹ جائے گا۔ مجموعی طور پر جدہ ٹاور کے تقریباً 130 منزلوں پر مشتمل ہونے کا امکان ہے۔
ڈیزائن اور ساخت کی ذمہ داری Adrian Smith + Gordon Gill (AS+GG) کے پاس ہے—دلچسپ بات یہ ہے کہ برج الخلیفہ بھی اسی معمار کے ذہن کی پیداوار تھا۔ اس منصوبے میں ساختی انجینئرنگ کا کردار ادا کرنے والی کمپنی Thornton Tomasetti نے حال ہی میں تعمیر کی نئی تصاویر شیئر کیں، جن سے واضح ہوتا ہے کہ کام دوبارہ پوری سنجیدگی سے جاری ہے۔
اندر کیا ہوگا؟
جدہ ٹاور محض اونچائی نہیں، ایک مکمل عمودی شہر ہوگا، جس میں لگژری ہوٹل، رہائشی اپارٹمنٹس، دفاتر، آؤٹ ڈور ڈیکس اور دنیا کا بلند ترین آبزرویشن ڈیک شامل ہو گا۔
اتنی بلندی کے لیے نقل و حرکت بھی غیر معمولی ہونی چاہیے اسی لیے یہاں 59 لفٹیں نصب کی جائیں گی، جس میں 54 سنگل ڈیک، 5 ڈبل ڈیک اور 12 ایسکلیٹرز شامل ہوں گی۔
ساتھ ہی عمارت کی بیرونی دیواریں ایسی ڈیزائن کی گئی ہیں کہ اندر توانائی کی کھپت کم سے کم رہے۔
اگر سب کچھ منصوبے کے مطابق رہا تو 2028 تک یہ خواب حقیقت بن سکتا ہے۔ اس سے بھی آگے دیکھیں تو سعودی عرب ریاض میں “رائز ٹاور” کے نام سے 2 کلو میٹر بلند عمارت کی منصوبہ بندی کر رہا ہے—جو انسانی تاریخ میں بلندی کی نئی تعریف ہو سکتی ہے۔











